نئی دہلی:29/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)سال 1984کے سکھ فسادات کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے کانگریس کے سابق ایم پی سجن کمار کو پیر کو جیل انتظامیہ نے دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا۔اس بار انہوں نے 1984 سے ہی متعلقہ سلطان پوری سکھ فسادات کیس میں پیش کیاگیا۔پیر کو اس معاملے میں اس گواہ کاسجن کمار کے وکیل نے کراس ایگزامشین کیا، جس نے پہلے ہی عدالت میں سجن کمارکوپہچاناتھا۔اس گواہ کا کہنا ہے کہ سجن کمار نے لوگوں کو حوصلہ افزائی کی، جس کے بعد بھیڑنے اس کے بیٹے اور والد کو قتل کیاتھا۔یہ گواہ کوئی اور نہیں بلکہ چام کور ہے۔پیر کے روز چام کور کے کراس ایگزامیشن کے لئے سجن کمار کے وکلاء نے اس معاملے میں کچھ اوروقت مانگ لیا، جس کے بعد عدالت نے اس معاملے میں 4فروری کی اگلے تاریخ دے دی،اب 4فروری کو گواہ چام کور کی دوبارہ جانچ کی جائے گی۔پچھلی سماعت میں عدالت نے سجن کمار کو پیش کرنے کے لئے پروڈکشن وارنٹ جاری کیا تھا۔سال 1984کے سلطانپوری سکھ فسادات کیس کی اہم گواہ چام کور کا پیر کو آدھے گھنٹے تک کراس ایگزمنیشن کرنے کے بعد سجن کمار کے وکلاء نے عدالت سے کہا کہ اسی معاملے میں چام کور نے 1987اور 1991میں اپنا بیان درج کرایا تھا۔
سجن کمار کے وکلاء نے کہا کہ اس وقت چام کور نے بیٹے کی موت کے بارے میں پولیس کو بیان نہیں دیا تھا،لہذا پرانا بیان ان کے پاس نہیں ہے،انہوں نے ہائی کورٹ میں اس کے لئے درخواست کی ہے اور یہ امید ہے کہ 30جنوری تک چام کور کے بیان کی نقل حاصل ہوجائے گی۔